معہد عثمان بن عفانؓ کا تعارف

اللہ رب العزت نے انسانوں  کواشرف المخلوقات بنایااور حضوراکرمﷺ کو ہمارے لئے مبعوث فرماکر احسان عظیم فرمایا ، آپ نے اپنی بعثت کااہم مقصد بیان فرمایا کہ ‘‘انمابعثت معلّما’’ (مجھے معلم بناکر بھیجا گیاہے )۔

آپﷺ نے علم اوراہلِ علم کے جتنے فضائل بیان فرمائے وہ اہلِ علم پرمخفی نہیں،آپ ﷺ نے عملاًحضرات صحابۂ کرام کی تعلیم اورتربیت جس طرح کی ،وہ بھی بالکل اظہرمن الشمس ہے ، “صفّہ ” اسلام کاپہلا مدرسہ ،آپ ﷺ اس کے معلم،قدسی صفات صحابۂ کرام اس کے طلبہ تھے، اس ‘‘مدرسہ’’ سے جودین کے علماء ، داعی مفکر،حکمران اورجہاں بان نکلے، انہوں نے قیامت تک آنے والوں پرجوعلمی احسانات کئے اوراپنے انمٹ اثرات چھوڑے، آج بھی الحمدللہ وہ اپنی مکمل تازگی اوربھرپور تاثیر کے ساتھ زندہ ہیں۔

دینی مدارس کاسلسلۂ نسب اسی ’’صفہ‘‘ سے ملتاہے ،عالمِ اسلام کی تاریخ میں دینی مدارس نے جوروشن کردار اداکیا،اساتذہ وطلبہ نے محنت ،لگن ،جدوجہد اورحق کی راہ میں قربانی کی جومثالیں پیش کیں، وہ رہتی دنیاتک کے لئے مشعلِ راہ بلکہ منارۂ نور ہیں۔

برصغیر پاک وہند میں اسلامی حکومت کاچراغ جب گل ہواتواسلام اوراہلِ اسلام کوصفحۂ ہستی سے نابود کرنے کے لئے کفارنے جوزبردست اورطویل منصوبہ بندی کی، ان کی منصوبہ بندی کوتوڑنے والے اوراسلام کی عظمت کے پرچم کواور اونچا لہرانے والے یہی اصحابِ علم اور مدارس ہی تھے ،اس وقت دارالعلوم دیوبند اوراس کے مخلص مؤسسین نے ناقابل فراموش کارنامہ انجام دیا،اہلِ اسلام کے قدموں کومضبوطی سے جمایااوران میں کسی قسم کی لغزش نہ آنے دی ،انتہائی ناسازگار حالات میں دین کے صحیح خدوخال کونہ صرف برقراررکھابلکہ بعد میں آنے والوں کے لئے بھی اس کو صحیح شکل وصورت کے ساتھ پہنچانے کازبردست انتظام کردیا۔

آج برصغیر پاک وہند میں جومدارس کاجال پھیلاہواہے ،قریہ قریہ، بستی بستی جومدرسے اورمکتب کھلے ہوئے ہیں، یہ انہی بزرگوں کے اخلاص کاثمر اوراسلام اوراہلِ اسلام کے عقائد وشعائر کوبرقرار رکھنے کے لئے ایک پائیدار طریقہ ہے ۔

آج اسکول وکالج اوردیگر دنیوی تعلیمی اداروں کی فضائیں دینی اعتبار سے بالکل مخدوش اورمسموم ہوچکی ہیں کہ یہی کفار اوراغیار کی سازش اورمنصوبہ بندی ہے ،نصابِ تعلیم کے اندریہودی ذہن کارفرماہے اورنظامِ تعلیم مغرب زدہ اور کافرانہ ،تربیت نام کی کوئی شے اس کے اندر نہیں،جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان اداروں میں دینی روح کواپنی مکمل قوتِ تاثیر کے ساتھ برقرار رکھتے ہوئے مفید دنیوی تعلیم اوراس کے علوم وفنون سے استفادہ کیاجاتااور مسلمانوں کی اس طرح خدمت کی جاتی کہ اغیار کی طرف نظر کرنے اور ان کا دست نگر بننے کی ضرورت نہ پڑتی۔

‘‘معہد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ’’ انہی مقدس اداروں کی ایک کڑی ہے ،اس کے مقاصد میں علومِ اسلامیہ کی اشاعت ، دینی روح کی بیداری اورمسلمان طلبہ وطالبات کی دینی اورمفید دنیوی تعلیم وتربیت کاایسا انتظام ہے جس سے یہ طلبہ وطالبات اپنے عقائد کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اسلامی زندگی گذارنے والے ،دعوتِ اسلام کودنیا بھرمیں بصیر ت کے ساتھ پہنچانے والے، علمی وعملی میدانوں میں دشمنانِ اسلام کے تمام پُرفتن حملوں کادفاع کرسکنے والے ہوں۔

طلبہ وطالبات کی ایسی ذہنی وعملی تربیت ہوکہ جہاں کہیں اسلام اوراہلِ اسلام پرآنچ آئے، وہاں وہ طلبہ قلم ولسان اورسیف وسنان سے اسلام اوراہلِ اسلام سے دفاع کاحق اداکرسکیں۔

اللہ رب العزت کالاکھ لاکھ شکرواحسان ہے، اس کابے نہایت فضل وکرم ہے کہ اس نے اعلیٰ وارفع مقاصد کے حصول کے لئے چند غیور اہلِ علم کو توفیق دی ،بیت اللہ شریف کے جوار میں مکہ مکرمہ کی پاک سرزمین میں اس ’’معہد ‘‘ کاتانابانا بُناگیا ،اس کے خدوخال کا خاکہ بنایاگیا اورعملی شکل میں لانے کااہتمام کیاگیا۔ اس طرح توکلاً علی اللہ26 / شعبان المعظم1415ھ  مطابق 28/جنوری 1995ء بروزشنبہ (ہفتہ) کراچی کے ایک غریب اورپسماندہ علاقے میں اس کی بنیاد ڈالی گئی، چونکہ بنیادی طورپرقرآن کریم کے علوم کوپھیلانا اوراسی سے ابتدا کرنامنظور تھااس لئے اس ادارہ کانام جامعِ قرآن خلیفۂ راشد حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے نام پر ‘‘ معہد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ  ’’رکھاگیاہے۔

’’معہد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ‘‘ کوخدمات انجام دیتے ہوئے تقریباً تیرہ سال مکمل ہونے والے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات پربھروسہ اوراعتماد کرتے ہوئے ہمارا ارادہ ہے کہ اس کی خدمات اورشعبہ جات کو وسعت دے کر ان شاء اللہ العزیز“جامعہ” کی سطح تک پہنچایاجائے گا۔وماذلک علی اللہ بعزیز۔

اغراض ومقاصد:

“معہد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ”کے اصولی اغراض ومقاصد حسبِ ذیل ہیں:

  • علوم عربیہ ودینیہ یعنی قرآن کریم ،تفسیر ،حدیث، اصولِ حدیث ،فقہ، اصول فقہ اور عقائد وغیرہ مذہبی علوم وفنون کی تعلیم وترویج واشاعت۔
  • علوم عربیہ ودینیہ کی تحصیل اوراغراض دینیہ کی تکمیل کے لئے ضروری اورمفید عصری علوم کی نشرواشاعت
  • بذریعۂ تحریروتقریر اورعملاً اسلام کی اشاعت اورحفاظت ۔
  • طلبہ وطالبا ت کی اسلامی اوردینی تربیت۔
  • علوم دینیہ کی اشاعت کے لئے لائحۂ عمل کی تیاری اوراقدام۔
  • دین کے تمام شعبہ جات میں قابل اورماہرعلماءِ عاملین کی فراہمی۔
  • طلبہ وطالبات کے علاوہ عامۃ المسلمین کے واسطے رفاہی خدمات کی انجام دہی اورعوام الناس کی فلاح وبہبود کے لئے ہمہ جہتی اقدام۔

اس ادارہ کاقیام سب سے پہلے اسّی گز کے ایک نیم پختہ کرائے کے مکان پرہوا،طلبہ وطالبات کی حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی تعدادکی وجہ سے جگہ تنگ پڑگئی ۔اس کے بعد آہستہ آہستہ ایک ایک قدم کرکے ادارہ تدریجی ترقی کی راہ پرگامزن ہوگیا وللہ الحمد۔

معہد کی تدریجی ترقی ایک نظرمیں

  • 20/شعبان 1415ھ مطابق 1995ء کوکرائے کے مکان میں قاعدہ وناظرۂ قرآن کریم سے اس کاافتتاح ہوا۔
  • 20/شوال 1415ھ مطابق 1995ء میں معلمینِ قرآن کے لئے تربیتی کورس کااجرا ہوا۔
  • ذوالحجہ 1415ھ مطابق 1995ءمیں  لڑکوں کے لئے درجۂ حفظ کاافتتاح ہوا۔
  • 15/محرم 1417ھ مطابق 1997ء میں تعلیمِ بالغان کاآغاز ہوا۔
  • 20  /صفر 1417ھ  مطابق 1997ء سے لڑکیوں کے لئے مستقل شعبۂ حفظ وناظرہ کاافتتاح ہوا۔
  • 1418 ھ مطابق 1998ء میں ’’معہد‘‘ کرائے کے مکان سے ملکیتی عمارت میں منتقل ہوا۔
  • 6 /شوال 1421ھ مطابق 2000ء سے درجۂ متوسطہ کاآغازہوا۔
  • 8  /شوال 1423ھ مطابق 2001ء میں درجۂ اولیٰ سے درسِ نظامی کا اجرا ہوا۔
  • 8/شوال 1425ھ مطابق2003ء سے میٹرک بورڈ کے تحت باقاعدہ میٹرک سائنس کاآغازہوا۔
  • 5/رجب 1428ھ مطابق 21 /جولائی 2007ء میں کمپیوٹرلیب کاآغاز ہوا۔

الحمدللہ مذکورہ درجات کے ساتھ درسِ نظامی کے مرحلہ ثانویہ عامہ(مساوی میٹرک)،ثانویہ خاصہ (مساوی ایف اے)،مرحلہ عالیہ(مساوی بی اے)اور تعلیمی سال 1428-29ھ میں عالمیہ سال اول تک کی تعلیم کاانتظام ہوگیاہے۔

  • تعلیمی سال 1430ھ-1431ھ سے تخصص فی اللغۃ کا اجراء کیا گیا۔
  • تعلیمی سال 1431ھ-1432ھ مطابق 2010ء-2011ء سے درس ِ نظامی کا آخری تکمیلی درجہ مرحلہ عالمیہ سال دوم (دورۂ حدیث) کا آغاز ہوا۔

معہد کے شعبہ جات پرایک اجمالی نظر:

شعبۂ بنین

(1) قاعدہ وناظرہ قرآن کریم ۔(2) تحفیظ القرآن الکریم۔(3) ابتدائیہ (نرسری وپرائمری)۔ (4) متوسطہ (مڈل)(5) ثانویہ (میٹرک /سائنس )۔(6)درسِ نظامی۔(بالتفصیل)(7) تربیتی کورس برائے معلمینِ قرآن کریم۔

شعبۂ بنات:

((1قاعدہ وناظرہ ۔ (2) تحفیظ القرآن الکریم۔ (3) ابتدائیہ(نرسری وپرائمری)۔ (4)متوسطہ(مڈل)۔ (5) ثانویہ (میٹرک سائنس)۔ (6)دراساتِ دینیہ

معہدکے دیگرشعبہ جات:

  • (1)   نشرواشاعت ۔ (2) دارالتصنیف۔ (3) دعوت وارشاد۔ (4) کتب خانہ(لائبریری)۔(5) کمپیوٹرانسٹیٹیوٹ (6)دفترتعلیمات۔  (7) مالیات۔ (8) تعمیرات۔(9) دارالاقامہ۔ (10) مطبخ۔