شعبۂ تحفیظ القرآن

پھربچوں کے واسطے ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم کے بعدسب سے زیادہ قرآن کریم کے مبارک الفاظ کویاد کرنے اورانہیں اپنے سینوں میں محفوظ کرنے کواہمیت حاصل ہے ۔ اگر چہ انفرادی طورپرہرہر مسلمان بچے کاقرآن کریم کاحافظ ہونا نہ ضروری ہے، نہ صلاحیتوں کے اختلاف کی وجہ سے ممکن۔تاہم پھربھی مجموعی طورسے اس سرچشمۂ علومِ دینیہ کی حفاظت کے لئے اللہ تبارک وتعالی نے لاکھوں بچوں کوان کے والدین کے دلوں میں حفظ کے شوق کاجذبہ پیداکرکے اس مقدس کام میں لگایاہواہے ۔ اوریوں‘‘وَإنّا لَه لَحَافِظُون ’’ (یعنی ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں) کاوعدہ پورا ہوتاہوانظر آرہاہے۔

چنانچہ ناظرہ قرآن کریم کے کچھ ہی عرصے بعد ذی الحجہ 1415ھ میں معہدمیں  شعبۂ حفظ کاقیام عمل میں آیا ۔شروع شروع میں یہ شعبہ بھی صرف ایک درجہ پرمشتمل تھا جس میں تقریباًپچیس تیس طلبہ زیرتعلیم تھے، اس کے بعدترقی کے مراحل طے کرتاہوایہ شعبہ اس منزل تک پہنچ گیاہے کہ اس میں معہد کی جدید عمارت کے وسیع وعریض ہال میں بیک وقت حفظ کے چارحلقے لگتے ہیں۔ ہر حلقہ میں تقریباً تیس طلبہ زیرتعلیم رہتےہیں ۔معہد میں داخل ہونے والے ہرخاص وعام کے لئے ان کا روح پرورمنظر دیدنی ہوتاہے، اوسطاً ہرسال معہدمیں تکمیلِ حفظ کرکے وفاق المدارس میں امتحان میں شرکت کرنے والے طلبہ کی تعداد پچیس سے تیس ہے ۔