درسِ نظامی

دینی مدارس وجامعات میں شعبۂ درس نظامی ہی وہ شعبہ ہے جس کی تکمیل پرطا لب علم کومدارس کی زبان میں ‘‘ فارغ التحصیل ’’  اورعرف عام میں‘‘عالم  ’’ کہاجاتاہے ۔اس میں حضرت ملانظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کامرتب کردہ الہامی نصاب پڑھایاجاتاہے اس نصاب کی ترتیب کواگرچہ کئی صدیاں گذرچکی ہیں تاہم اس کی افادیت اب بھی مسلّم ہے۔

گردشِ دوراں اورنت نئے فقہی مسائل اورمعاشرتی تقاضوں کی وجہ سے قدرے تبدیلی وترمیم کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے جس کافریضہ ماہر علماءِ کرام کابورڈ انجام دیتاہے ۔

حکومتی حلقوں اورجدّت پسنداسکالروں کی طرف سے اس نصاب پر  Out of Dateہونے کی پھبتیاں کسی جاتی ہیں اور اس کو مختلف بے بنیاد اعتراضات کانشانہ بنایاجاتاہے، تاہم علماءِ ربانیین کی مخلص جماعت اس سلسلے میں کسی بھی قسم کے سمجھوتے کی روادار نہیں ہے۔

یہ شعبہ کل چارمراحل پرمشتمل ہوتاہے ہرمرحلہ دوسال کے دورانیے کاہوتاہے ،اس طرح کل آٹھ سالوں پرمشتمل یہ نصاب ہے، جس میں ہرمرحلہ کے اختتام پردینی مدارس وجامعات کے متفقہ بورڈ وفاق المدارس کے تحت امتحان ہوتاہے ۔ پہلے امتحان کی ڈگری “میٹرک ”کے مساوی ہوتی ہے دوسری کی “انٹر ”اورتیسری کی” بی -اے ”کے اور آخری ڈگری جسے “شہادة العالمیہ” کہاجاتاہے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی تصریح اورفیصلہ کے مطابق مساوی “ایم اے عربی و اسلامیات ”سمجھی جاتی ہے ۔گویادرس نظامی سے فارغ التحصیل کوماسٹرکی دوڈگریوں کاحامل سمجھاجاتاہے ۔

معہد میں اس شعبہ کاآغاز 8/شوال 1423ھ میں ہوا۔ابتدا میں صرف ایک درجہ ( جسے مدار س کی زبان میں‘‘ درجۂ اولی ’’کہاجاتاہے )پرمشتمل تھا اس کے بعد تدریجی ترقی پرعمل کرتے ہوئے ہرسال ایک درجہ کااضافہ ہوتارہاتاآنکہ1431ھ-1432 مطابق 2010ء-2011ء کو درس نظامی کا آخری سال (دورۂ حدیث) کا آغاز ہوگیا اس طرح درس نظامی کی تکمیل ہوگئی۔

معہدمیں شعبۂ درس نظامی کی خصوصیات:

دیگر دینی مدارس و جامعات کے مقابلہ میں معہد کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں درس نظامی کے طلبہ کو عربی لینگویج، انگلش لینگویل  اور کمپیوٹر کی تعلیم سے بھی روشناس کرایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں عربی زبان و ادب کی ترویج و ترقی اور اس کی اشاعت کے پیش نظر ہماری کوشش ہے کہ “معہد” میں تمام درجات میں تدریسی زبان مکمل عربی ہو، تاہم اس میں بھی تدریجی مراحل طے کرتے ہوئے ہم نے ثانویہ عامہ سالِ دوم سے لے کر عالیہ سال اوّل تک ہر درجہ میں دودو فریق کردئیے، ایک فریق میں اگر اردو ہو تو دوسرے فریق میں تدریسی زبان عربی ہوتی ہے، اس طرح آئندہ ان شاء اللہ درسِ نظامی کے تمام درجات میں تدریسی زبان عربی بن جائے گی۔

تدریسی زبان عربی ہونے کی وجہ سے طلبہ کو اس زبان میں جو مہارت حاصل ہوجاتی ہے اور عربی زبان کی جو مشق و مزاولت ہوجاتی ہے اس کی افادیت مخفی نہیں۔