الغزالی پرائمری اینڈ سیکنڈری بوائز سکول

بچوں کوایک صحیح دینی فکر کاحامل مسلمان بنانے اوردوسری طرف نت نئے معاشی، معاشرتی اورسائنسی تقاضوں سے واقف کرنے کے لئے عصری علوم کی ضرورت اہلِ نظر اورماہرین تعلیم سے مخفی نہیں۔خالص تجارتی بنیادوں پرچلنے والے عصری تعلیمی اداروں میں صالح انتظامی وتدریسی ڈھانچے کے فقدان اوران میں اخلاقی وعملی کوتاہیوں کے پیش نظر دینی ذہن رکھنے والے حضرات کی اپنے بچوں کوایسے اداروں میں داخل کرنے میں ہچکچاہٹ بجاہے، اس تناظرمیں ارباب معہد نے اولاً نرسری سے عصری تعلیم کاآغازکیا،تاکہ قوم کے بچے جوہمارے پاس ایک امانت ہیں، دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم میں بھی دیگر عصری اداروں میں پڑھنے والے بچوں سے کسی طرح پیچھے نہ رہیں ۔

معہد میں نرسری وپرائمری میں نصاب تعلیم بالکل وہی ہے جوگورنمنٹ سے منظورشدہ ہے، تاہم سرکاری اسکولوں کے برخلاف ہمارے یہاں انگریزی کی تعلیم ابتداہی سے شروع ہوجاتی ہے، اس سلسلہ میں انگریزی کے سرکاری نصاب کے بجائے آکسفر ڈ یونیورسٹی پریس کی کتابیں نصابِ تعلیم میں شامل کی گئی ہیں۔اسی طرح دینی تعلیم اوراخلاقی اقدارکو مضبوط بنیادوں پراستوارکرنے کے لئے اسلامیات کولازمی قرار دیاگیاہے۔یہی نہیں  بلکہ اس حوالے سے ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ا س طرح کانظام بنایاگیاہے کہ بچہ کو اسلامی آداب و معاشرت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کی اخلاقی تربیت کی طرف خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور پھر اس کی عملاً نگرانی کی جاتی ہے۔ اس طرح یہ طالب علم پرائمری مکمل کرنے تک مکمل ناظرہ قرآن کریم باتجوید مکمل کرلیتاہے جس کے لئے مستقل طور پر کئی پیریڈز ناظرہ قرآن کریم کے لیے مختص کیے گئے ہیں جس کے فوائد کاکھلی آنکھوں مشاہدہ ہورہاہے۔

عصری تقاضوں سے بچوں کوباخبررکھنے اوران سے بھرپورطریقے سے نمٹنے کے لئے دیگرعصری مضامین کے ساتھ ساتھ انگلش لینگویج اورکمپیوٹرکی تعلیم کاآغاز بھی کردیاگیاہے جس سے مستقبل میں انتہائی حوصلہ افزا نتائج کی توقع ہے ۔اس شعبہ میں طلبہ کی تعداد روزبروز بڑھ رہی ہے ۔بعض درجات میں طلبہ کی کثرت کے باعث دوفریق بنائے گئے ہیں تاکہ سہولت کے ساتھ پڑھائی کوممکن بنایاجاسکے ۔

شعبۂ متوسطہ وثانویہ (مڈل وسیکنڈری)

6 / شوال 1421ھ میں درجۂ متوسطہ کاآغاز کیاگیا ، درجہ متوسطہ( جسے اعدادیہ بھی کہاجاتاہے ) کا مقصد طلبہ کودوسالوں میں مڈل تک کی کتابوں کی تعلیم دے کر درس نظامی کے کورس کے لئے تیار کرناہوتاہے۔بعض مدارس میں یہی کام تین سال میں انجام پاتاہے لیکن ارباب معہد نے کافی سوچ بچار کے بعد ایک جامع پالیسی مرتب کی، جس کے تحت مڈل کی تعلیم دوسالوں میں مکمل ہوجاتی ہے۔ یہ شعبہ ترقی کے منازل طے کرتارہا اوراب الحمدللہ صورتحال یہ ہے کہ 8/شوال 1425ھ سے یہاں میٹرک بورڈ کے تحت باقاعدہ سائنس سے میٹرک کاآغاز کردیاگیا۔یہ ہمارے علم کی حدتک دینی مدارس کے پھیلے ہوئے جال میں معہد ہی کی خصوصیت ہے ۔ الحمدللہ میٹرک بورڈ کے تحت ہر سال طلبہ امتحان دے کر اعلی نمبر کے ساتھ سندِکامیابی حاصل کررہے ہیں اورعصری تعلیم کے سلسلے کومزید آگے بڑھانے کے لئے پُرعزم ہیں جونہایت ہی خوش آئند ہے ۔

معہد میں متوسطہ وثانویہ (مڈل وسیکنڈری)کی خصوصیات:

انگلش لینگویج کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں کی بنسبت اس شعبے میں معہد کی یہ خصوصیت ہے کہ یہاں چھٹی سے لے کر میٹرک تک چارسال باقاعدہ عربی لینگویج کاگھنٹہ (پیریڈ)رکھاگیاہے تاکہ جب طلبہ درس نظامی کاآغاز کریں توکافی حدتک عربی سمجھنے اوربولنے کی صلاحیت کے حامل ہوں اوراگلے درجات میں قرآن فہمی اوردینی علوم میں بھی بصیرت حاصل کرنے میں مزید سہولت پیدا ہوجائے ۔ اس کے علاوہ ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ طالبعلم کومیٹرک کے سال میڑک سائنس کے مضامین کے ساتھ ساتھ کچھ مزید دینی اہم کتابیں بھی پڑھادی جاتی ہیں۔

لیبارٹری کاقیام:

میٹرک کے طلبہ کے واسطے تجربات کے لئے ایک لیبارٹری کاقیام ضروری تھا،چنانچہ معہد میں ایک لیبارٹری کاقیام عمل میں آیا اور اس میں متعلقہ تمام ضرورت کے سامان اور نقشہ جات فراہم کیے گئےجس میں طلبہ اساتذہ کی رہنمائی میں یکسوئی کے ساتھ تجربات کرتے ہیں۔